اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق کی وزارتِ مہاجرت و بے گھر افراد نے اپنے علاقوں میں بے گھر خاندانوں کی واپسی کی کوششیں جاری رہنے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیمپوں میں مقیم بے گھر افراد کی تعداد تقریباً 19 ہزار خاندان ہے، جن میں زیادہ تر ایزدی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔
عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’واع‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے وزارتِ مہاجرت و بے گھر افراد کے ترجمان علی عباس نے بتایا کہ باقی ماندہ بے گھر افراد اربیل اور دُہوک کے دو صوبوں میں قائم 16 کیمپوں میں مقیم ہیں اور ان میں اکثریت ایزدیوں کی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ نے عراق کے وزیراعظم کے دفتر کے تعاون سے سنجار کے ان علاقوں کی تعمیر نو کے لیے ایک حکمتِ عملی تیار کی ہے جہاں بے گھر افراد کی واپسی ممکن ہے۔ اس منصوبے کا مقصد بین الاقوامی وسائل سے ان علاقوں کے مالی مسائل حل کرنا اور بنیادی خدمات کی فراہمی کے لیے ضروری وسائل مہیا کرنا ہے۔
علی عباس نے کہا کہ الحضر کے علاقوں اور سرحدی دیہاتوں کا زمینی جائزہ بھی لیا گیا ہے تاکہ تعمیر نو اور صحت، تعلیم، سڑکوں، بجلی اور پانی سمیت بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ یہ اقدامات متعلقہ حکام، مقامی حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے جاری ہیں۔
عراقی وزارتِ مہاجرت کے ترجمان نے بے گھر افراد کی درست تعداد بتانے میں درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے تک بے گھر رہنے کے باعث بہت سے خاندان اپنے موجودہ علاقوں میں گھل مل گئے ہیں اور روزگار اور روزانہ آمدنی کے مواقع حاصل کرنے کے بعد واپسی کو اپنی موجودہ زندگی میں ترجیح نہیں دے رہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اپنے علاقوں کو واپس جانے والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور 30 ہزار سے زائد افراد سنجار، القحطانیہ اور سنونیہ کے علاقوں میں واپس جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت ان علاقوں میں سکیورٹی اور بنیادی سہولیات کی صورتحال بہتر ہونے کے ساتھ سامنے آئی ہے۔
علی عباس نے آخر میں کہا کہ بے گھر افراد کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے سالانہ پروگرام اور حکومت کا منصوبہ جاری ہے، جس کا مقصد بے گھر افراد کے کیمپوں کا معاملہ مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بے گھر افراد کی واپسی مکمل طور پر رضاکارانہ ہے اور کسی کو زبردستی واپس نہیں بھیجا جا رہا، جو اس حوالے سے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہے کہ خاندانوں کو اپنے موجودہ مقام پر رہنے، کسی دوسرے مقام پر منتقل ہونے یا اپنے علاقوں میں واپس جانے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔
آپ کا تبصرہ